اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، میجر جنرل محسن رضائی نے ’’ڈراپ سائٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اگر سفارت کاری کے ذریعے یہ بات سمجھائی جا سکتی ہے تو ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر جنگ جاری رہی تو ایران کے پاس جوابی کارروائی جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران نے جنگ کے پہلے مراحل میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کیں۔ جنگ کی شدت کے مطابق مزید صلاحیتیں کارروائیوں میں شامل کی گئیں اور اگلے مرحلے کے لیے بھی ایران تیار ہے۔
محسن رضائی نے خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال برقرار رہنے کے تزویراتی نتائج سامنے آئیں گے۔ ان میں توانائی کی منڈیوں کا آئندہ تین سال تک پرسکون نہ ہو پانا بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق، جنگ جاری رہنے سے علاقائی تعلقات کی صورت حال ایران کے حق میں تبدیل ہوئی ہے، کیونکہ خلیج فارس کے عرب ممالک تیزی سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے مزید کہا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکی فوج اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی، حالانکہ ان ممالک کو توقع تھی کہ امریکہ ان کا دفاع کرے گا۔
آپ کا تبصرہ